ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پہلو خان لنچنگ کیس کے ملزموں کو بری کرنے پر ایس ڈی پی آئی نےاُٹھائے سوال؛ کہا یہ ہندوستانی عدلیہ پر ایک بڑا دھبّہ ہے

پہلو خان لنچنگ کیس کے ملزموں کو بری کرنے پر ایس ڈی پی آئی نےاُٹھائے سوال؛ کہا یہ ہندوستانی عدلیہ پر ایک بڑا دھبّہ ہے

Sat, 17 Aug 2019 11:58:04    S.O. News Service

نئی دہلی،17/اگست (ایس او نیوز/ پریس ریلیز)سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں کہا ہے کہ پہلو خان لنچنگ کیس میں 6ملزموں کے بری کئے جانے سے قوم کوصدمہ اور ہندوستانی عدلیہ پر ایک بڑا دھبّہ لگا ہے۔ ہمارا نظام انصاف جگ ہنسائی کا سبب بن رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جمہوری نظام اور انصاف دونوں آئی سی یو میں ہیں۔ دراصل یہ فیصلہ عدالتی نظام پر حملہ ہے اور فیصلے سے لگتا ہے کہ قتل عام کو قانونی حیثیت دیا گیا ہے۔

 ایم کے فیضی نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملزم مسلمان ہوتے تو عدالت کیا وہی فیصلہ دیتی!۔مثال کے طور پر مظفر نگر میں حال ہی میں صرف مسلم ملزموں کو ہی سزا سنائی گئی۔ کیا مسلمانوں اور دلتوں کیلئے ہندوستان میں انصاف نہیں ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے ہندوستان میں گائے سے زیادہ انسان کی زندگی سستی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیکر کہا کہ عدالتیں تکنیکی بنیادوں پر اندھی نہیں ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ  پہلو خان کو موت کے گھاٹ اتارنے والے مویشی تھے یا ہم سب نے جس ویڈیو میں گمنام چہرے دیکھے تھے انہوں نے پہلو خان کو مارا تھا؟

ایم کے فیضی نے  کہا  کہ اگر کسی کو دن کے اجالے میں ہلاک کیا جاتا ہے اور موبائل کیمرا میں وہ ریکارڈ ہوجائے لیکن پھر بھی عدالت کا کہنا کہ یہ ثبو ت نہیں ہے، کیا یہ مزاق نہیں ہے ؟  ایسے معاملے میں ایک تجربہ کار جج ہی نہیں بلکہ ایک پانچ سالہ بچہ بھی ملزموں کو سزا سنا سکتا ہے۔ ایم کے فیضی نے مزید کہا  کہ  پہلے انسانیت کی موت ہوئی تھی اور اب عدلیہ کی موت ہوئی ہے۔ کیمرے میں ریکارڈ کی گئی واردات پر ملزموں کو  شک کا فائدہ کیسے دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے  ماب لنچنگ کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ پولیس ویڈیو سے قاتلوں کی شاخت کرسکتی ہے، لیکن عدالت نہیں!۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگلی بارسسٹم ایک مجسٹریٹ کے ہمراہ لنچنگ کا مشاہدہ کرے گا۔

انہوں نے اس بات پر بھی سوال اُٹھایا کہ اگر ویڈیو ثبوت کافی نہیں ہیں تو پھر پولیس کے ذریعے ٹریفک چالان کیسے گھر بھجوایا جاتا ہے؟۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے راجستھان کی کانگریس حکومت سے مطالبہ کیا کہ و ہ مجرم افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کریں اور  عدالت میں بحث کرنے کیلئے قابل قانونی پیشہ ور افراد کی تقرری کرے۔


Share: